نسلِ نو کے ایمان، عقیدہ اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے دینی تعلیم کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے: مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی
ممبئی4؍ ستمبر 2026 :جمعیۃ علماء کے زیرِ اہتمام چیتا کیمپ ممبئی میں واقع معراج العلوم جامع مسجد میں ایک اہم دینی تعلیمی بیداری اجلاس منعقد ہوا، جس میں علاقے کے ائمۂ مساجد، علماء، ذمہ دارانِ جمعیۃ، مکاتب کے معلمین اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد معاشرے میں دینی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا، نئی نسل کو بنیادی اسلامی تعلیمات سے جوڑنا اور مکاتبِ دینیہ کے نظام کو مزید مضبوط و مؤثر بنانا تھا۔اجلاس سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری اپنی نسلِ نو کے ایمان، عقیدہ، اخلاق اور اسلامی شناخت کی حفاظت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو صرف عصری تعلیم سے آراستہ کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے لیے قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ، بنیادی عقائد، عبادات، اسلامی آداب اور سیرتِ رسول ﷺ کی تعلیم بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکتب دینی تعلیم کی بنیادی درس گاہ ہے، جہاں بچوں کو دین کی ابتدائی اور ضروری تعلیم دی جاتی ہے۔ اگر بچوں کا تعلق بچپن ہی سے قرآن و سنت اور دینی ماحول سے مضبوط کردیا جائے تو وہ بڑے ہوکر اپنے دین، تہذیب اور اسلامی اقدار سے وابستہ رہیں گے۔ اس لیے ہر مسجد کے ساتھ مکتب کا قیام اور اس میں معیاری دینی تعلیم کا انتظام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے والدین، ائمۂ مساجد، علماء اور معلمینِ مکاتب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی دینی تربیت صرف مدرسہ یا مکتب کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ والدین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے معاملے میں سنجیدگی اختیار کریں اور انہیں پابندی کے ساتھ مکتب بھیجیں۔ اسی طرح ائمہ و علماء اپنے علاقوں میں مکاتب کے نظام کو مضبوط بنانے اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو دینی تعلیم سے جوڑنے کے لیے عملی کوششیں کریں۔
مولانا ندیم صدیقی صاحب نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں بچوں اور نوجوانوں کو مختلف فکری، اخلاقی اور تہذیبی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں دینی تعلیم ہی وہ مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے جو انسان کو اپنے عقیدے، عبادات، اخلاق اور اسلامی تہذیب سے وابستہ رکھتی ہے۔ اس لیے دینی تعلیم کو نظر انداز کرنا مستقبل کی نسلوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے معلمینِ مکاتب کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معلم صرف سبق پڑھانے والانہیں بلکہ بچوں کی شخصیت سازی کرنے والامربی بھی ہے۔ اس لیے معلمین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ محبت، شفقت اور حکمت کا معاملہ کرتے ہوئے انہیں دین کی تعلیم آسان اور مؤثر انداز میں دیں اور ان کے اندر نماز، قرآن، والدین کی فرمانبرداری، سچائی، امانت داری اور حسنِ اخلاق جیسی صفات پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اجلاس میںقاری محمد صادق خان صاحب ( نائب صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر ) مولانا زاہد قاسمی صاحب ،مفتی آزاد قاسمی صاحب، مولانا اشفاق قاسمی صاحب اور علاقہ کے علماء اور معلمین مکاتب و عوام بڑی تعداد میں شریک تھے ۔