جمعیۃ علماء ہند اکابر و اسلاف کی قائم کردہ سب سے قدیم اور عظیم جماعت ہے ،جس کو ماہ نومبر 1919 میں انقلابی علماء کرام نے جمعیۃ علماء ہند کے نام سے باضابطہ دستوری جماعت کی تشکیل کی،جس کے پہلے صدر مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ صاحب ؒ منتخب ہوئے ۔اس تنظیم کا قیام علماء کرام کی انقلابی تحریک کا فیصلہ کن موڑ تھا ،مسلح انقلاب کی راہ ترک کرکے عدم تشدد اور اہنسا کا راستہ اختیار کیا گیا ہے اس طریقہ کار کی بدولت ملک کی آزادی کا حصول ممکن ہوا ۔اور انگریز اس ملک کو چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئے ، جمعیۃ نےتقسیم ملک کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے مسلمانوں کو اسی ملک میں رہنے کی تلقین کی اور پورے عزم و حوصلہ اور صبر و استقلال کے ساتھ زندگی گزارنے کی تر غیب دی۔ جنگ آزادی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی شخصیت شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ اور ان کے رفقاء کرام جب 8؍ جون 1920 کوتین سال سات مہینے کے بعد مالٹا کی قید سے رہا ہوکر ممبئی کی بندرگاہ پر پہونچے تو ممبئی میں ان کا استقبال کرنے والوں میں ہزاروں عقیدت مندوں کے ساتھ مولانا عبد الباری فرنگی محلی اور کاندھی جی بھی موجود تھے۔ جمعیۃ علماء نے ہی اس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے میں قائدانہ کردار ادا کیا ،تقسیم ملک کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے مسلمانوں کو اسی ملک میں رہنے کی تلقین کی اور پورے عزم و حوصلہ اور صبر و استقلال کے ساتھ زندگی گزارنے کی تر غیب دی۔ملک آزاد ہونے کے بعد ملت اسلامیہ کے اندر حوصلہ ،ہمت اور اعتماد کے ساتھ یہ احساس پیدا کرنا تھا کہ ہندوستان ان کا ملک ہے اور وہ یہاں کے حقیقی باشندے ہیں ،اس درمیان فرقہ پرستوں کے ذریعہ کرائے جارہے فرقہ وارانہ فسادات بھی جمعیۃ علماء کے سامنے ایک چیلنج تھے ،اکابرین جمعیۃ نے تعمیر ملت کے ساتھ فرقہ پرست طاقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ فسادات سے تباہ حال لوگوں کی بازآباد کاری کی ،ساتھ ہی مدارس و مساجد اور مقابر کے تحفظ کے لئے جدوجہد اور کوشش کرتی رہی۔
قدرتی آفات ،سیلاب و زلزلہ متاثرین کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی خدمات نایاب ہیں ،جہاں پر بھی ایسا کوئی حادثہ یا واقعہ پیش آتا ہے ،بلا تفریق مذہب و ملت تمام متاثرین اور تباہ حال لوگوں کی امداد کرتی ہے ،ماضی میں جمعیۃ علماء نے آسام ،بہار ،کشمیر ،چنئی ،کیرالا، نیپال وغیرہ میں سیلاب متاثرین کے لئے بڑا کام کیا ہے ۔تقسیم وطن کے بعد آسام کے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دے کر وطن سے بے وطن کرنے جائیدادوں اور املاک سے محروم کرنے کی سازش رچی گئی ،جمعیۃ علماء ہند نے لاکھوں آسامی مسلمانوں کو نچلی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک این آرسی کی لڑائی میں راحت دلائی ۔ اور ابھی بھی مقدمہ کی پیروی کر رہی ہے ۔
جمعیۃ علماء ہند نے آزادی کے بعد ہی مسلم اقلیت کے لئے پسماندگی کی بنیاد ریزرویشن کا مطالبہ شروع کر دیا تھا ،اس تحریک کابا ضابطہ آغاز حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحب ؒ ( سابق صدر جمعیۃ علماء ہند ) نے 1997 میں کیا ،اس کے لئے پورے ملک میں دستخطی مہم چلاکر صدر جمہوریہ ہند کو میمورنڈم پیش کیا گیا ،الحمداللہ آج جمعیۃ کی کوشش سے ملک کی کئی ریاستوں میں ریزرویشن نافذ ہے ،بقیہ ریاستوں میں پسماندہ مسلم اقلیتوں کے لئے کوشش جاری ہے ۔
الغرض جمعیۃ علماء کے نام سے ہی اس کے شاندار ماضی ، روشن ،حال اور تابناک مستقبل کا تصور ذہن میں آتا ہے،ہندوستانی مسلمانوں کو مشکلات سے نکالنے ،دینی تعلیمات کے مطابق انکے اقتصادی ،اخلاقی ، معاشی ،حالات کو سدھارنے کی مسلسل جدو جہد کی اور ایک طویل عرصے سے ملت اسلامیہ کی بقاء و تحفظ اور انہیں با عزت مقام دینے کے لئے کوشش کرتی چلی آ رہی ہے خصوصا غریبوں ،یتیمو ں،بیوائوں ،جیلوں میں بند بے قصور قیدیوں ،فسادات کے مظلو مین و متاثرین کا لج اور یو نیور سٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو اسکالر شپ دینے اور دیگر دینی ملی خدمات جانشین فدائے ملت حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی دامت بر کا تہم ( صدرجمعیۃ علماء ہند) کی قیادت میں انجام دے رہی ہے۔
جمعیۃ علماء مہا راشٹر اپنے قیام سے لیکر آج تک قوم وملت کے فلاح و بہبود ، مسلمانوں کی باز آباد کاری ، راحت رسانی اور خود اعتمادی،معاشرتی اصلاح کے سلسلے میں انتہائی فعال و متحرک شخصیت حضرت مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب ( صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر) کی صدارت میں نمایاں خدمت انجام دے رہی ہے ،ملک و ریاست کے کسی بھی علاقہ میں پیش آنے والے خوف ناک زلزلے ،فرقہ وارانہ فسادات ،طوفانی سیلاب ، آتش زدگی کے موقع پر جمعیۃ علماء مہا راشٹر امداد ، و ریلیف پہونچانے میں پیش پیش رہتی ہے۔ صوبے بھر میں سیرۃ النبیﷺ و اصلاح معاشرہ کے جلسے ،مسلم حقوق کے لئے حصول انصاف کا نفرنسیں،براد ران وطن اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوششیں ، برسہا برس سے جیلوں میں بند بے قصور مسلم نو جوانوں کی رہائی کے لئے مقدمات کی پیروی ،و قانو نی امداد جاری ہے ۔
طلباء کو اسکالرشپ
امداد و ریلیف
بے قصور قیدیوں کی رہائی
جمعیتی احباب و اراکین
جمعیۃ علماء ہند (قائم کردہ: 1919) ملک کی سب سے قدیم اور عظیم ملی تنظیم ہے، جو جنگِ آزادی سے لے کر آج تک مسلمانوں کے تحفظ اور باوقار زندگی کے لیے کوشاں ہے۔ صوبہ مہاراشٹر میں صدر محترم حضرت مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب کی سرپرستی میں یہ کارواں آفات کے متاثرین کی بلا تفریقِ مذہب امداد، بے قصور قیدیوں کی قانونی پیروی، اور غریب طلبہ کو تعلیمی وظائف (اسکالرشپ) فراہم کرنے جیسی عظیم خدمات نہایت سرگرمی سے انجام دے رہا ہے۔
© Copyright Jamiat Ulama-i-Hind Maharashtra. All Rights Reserved.