واشم۔ 15 ستمبر 2026( پریس ریلیز ) دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی ہدایات کے مطابق موجودہ حالات میں نئی نسل کے ایمان، اعمال، اخلاق اور دینی تشخص کی حفاظت کے لیے مکاتبِ دینیہ کے قیام، استحکام اور فروغ کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت صوبہ بھر میں مکاتبِ دینیہ کے معلمین، ائمۂ کرام اور ذمہ داران کے لیے تشکیلی و تدریبی پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں حضرت مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب(سرپرست دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء مہاراشٹر) کی ہدایت پر حضرت مولانا مفتی محمد روشن شاہ قاسمی صاحب (صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء مہاراشٹر) کی نگرانی میں 20 ستمبر 2026ء کو ضلع واشم کے مکاتبِ دینیہ کے معلمین، ائمۂ کرام اور ذمہ داران کا ایک روزہ تشکیلی و تدریبی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے اور اسے زیادہ سے زیادہ مؤثر بنانے کے لیے باگوان پورہ مسجد، واشم میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کے مختلف علاقوں اور دیہاتوں سے مکاتب کے معلمین و ذمہ داران کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے، دعوتی و تشکیلی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور پروگرام کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔مشاورتی اجلاس میں مولانا محمد آصف صاحب(صدر جمعیۃ علماء ضلع واشم)مولانا مفتی الیاس صاحب(جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء ضلع واشم) کے علاوہ ضلعی جمعیۃ علماء کے ذمہ داران، شہر کے علمائے کرام اور دیگر متعلقین نے شرکت کی۔ شرکاء نے مکاتبِ دینیہ کی موجودہ صورتِ حال، معلمین کی تربیت، تدریسی معیار کو بہتر بنانے اور مکاتب کو نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کا مضبوط ذریعہ بنانے کے سلسلے میں اپنی آراء پیش کیں۔
اجلاس میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ مکتب صرف بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھانے کا مرکز نہیں بلکہ ان کے ایمان، عقائد، عبادات، اخلاق، اسلامی آداب اور دینی شعور کی بنیاد رکھنے کا اہم ادارہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر محلے اور بستی میں مکاتب کا مضبوط نظام قائم ہو اور ان میں خدمات انجام دینے والے معلمین کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق تربیت اور رہنمائی فراہم کی جائے۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع واشم کے زیادہ سے زیادہ مکاتبِ دینیہ کے معلمین، ائمۂ کرام اور ذمہ داران کو 20 ستمبر کے تشکیلی و تدریبی اجلاس سے جوڑا جائے گا، تاکہ مکاتب کے نظام کو مزید منظم، مضبوط اور مستحکم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ معلمین کی تدریسی صلاحیتوں میں اضافہ، بچوں کی دینی تربیت کے مؤثر طریقۂ کار اور مکاتب کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں شریک علماء و ذمہ داران نے کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل کو دینی تعلیم سے وابستہ رکھنا پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے قرآن کریم، نماز، روزہ، بنیادی عقائد، ضروری مسائل اور اسلامی اخلاق و آداب کی تعلیم دی جائے تو ان کے اندر دین سے وابستگی اور اسلامی شناخت مضبوط ہوگی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مکاتب کا وسیع اور مستحکم نیٹ ورک وقت کی اہم ضرورت ہے۔مشاورتی نشست کے شرکاء نے ضلع کے تمام متعلقہ ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مکاتب کے معلمین، ائمۂ کرام اور ذمہ داران سے رابطہ کرکے انہیں اس اہم تشکیلی و تدریبی اجلاس میں شرکت کے لیے متحرک کریں، تاکہ یہ پروگرام زیادہ سے زیادہ مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہو۔