Admin
- May 19, 2026
مہاراشٹر کی معروف دینی و تبلیغی شخصیت امیر جماعت الحاج حافظ منظور احمد صاحب کا انتقال
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب کا تعزیتی بیان
ممبئی: انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ آج بتاریخ 18 مئی بروز پیر مہاراشٹر کی معروف و مشہور دینی و دعوتی شخصیت، تبلیغی جماعت کے نہایت فعال اور مخلص ذمہ دار امیر جماعت الحاج حافظ منظور احمد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، اور وہ اس دارِ فانی کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
حافظ صاحب کے انتقال کی خبر نے پورے صوبہ مہاراشٹر کے دینی و دعوتی حلقوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔ حافظ منظور صاحب کے انتقال پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر محترم مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کا بڑا خسارہ قرار دیا ہے۔
مرحوم عرصہ دراز سے دعوت و تبلیغ کے عظیم مشن سے وابستہ تھے اور مہاراشٹر میں دینی بیداری، اصلاحِ معاشرہ اور نوجوانوں کی تربیت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کی زندگی سادگی، تقویٰ، اخلاص اور دین کی بے لوث خدمات کا حسین نمونہ تھی۔
حافظ منظور صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کی محنت، امت کی اصلاح اور مسلمانوں کو دین سے جوڑنے میں صرف کر دی۔ مرحوم نہایت نرم خو، ملنسار، خوش اخلاق اور دردمند انسان تھے۔ ان کے بیانات اور نصیحتوں سے ہزاروں افراد نے دینی فائدہ حاصل کیا۔ وہ ہمیشہ اتحادِ امت، اخلاصِ عمل اور سنتِ نبویؐ کی پیروی پر زور دیتے تھے۔ انہوں نے مہاراشٹر کے مسلمانوں کی دینی و اسلامی رہنمائی کی، ان کے ایمان و عقائد کی اصلاح کی، ہزاروں مسلمانوں کے اعمال، اخلاق اور کردار کی درستگی کے ساتھ مسلمانوں کی اخلاقی و عملی اصلاح کا بہترین فریضہ انجام دیا۔
الحاج حافظ منظور صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے میرے ذاتی مراسم تھے وہ جمعیۃ علماء کے کاموں کی بھرپور تائید کرتے، قلبی محبت و عقیدت کا اظہار فرماتے، دعاؤں سے نوازتے تھے، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی جملہ خدمات کو قبول فرمائے، مصیبت کی اس گھڑی میں ہم حافظ منظور صاحب مرحوم کے جملہ پسماندگان و لواحقین سے تعزیتِ مسنونہ اور دعائے مغفرت پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے، صوبے بھر کے تمام جمعیتی احباب، اراکین، ائمہ مساجد، اور ذمہ دارانِ مدارس اور عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ مرحوم کے لئے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کا اہتمام کریں۔