ممبئی، 13ستمبر 2026ء:( پریس ریلیز )جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے زیرِ اہتمام جاری دینی تعلیمی بیداری مہم کے سلسلے میں مرغی محلہ مسجد، 18 میمن واڑہ روڈ، شالیمار ہوٹل کے پیچھے، محمد علی روڈ، ممبئی میں بصدارت حضرت مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب( صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر)ایک عظیم الشان دینی تعلیمی بیداری اجلاسِ عام منعقد ہوا، جس میں علماء کرام، ائمۂ مساجد، مکاتب کے معلمین، ذمہ داران اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔اجلاس میں خصوصی طور پر صوبائی صدر محترم مولانا ندیم صدیقی سمیت مفتی محمد روشن شاہ قاسمی صاحب( صدر دینی تعلیمی بورڈ مہاراشٹر)قاری شمس الحق قاسمی صاحب صدر جمعیۃ علماء مراہٹواڑہ
مفتی عبد الرحمن اشرفی صاحب ( جنرل جمعیۃ علماء مرہٹواڑہ) مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی صاحب( ناظمِ تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر)نے شرکت کی اور دینی تعلیم کی اہمیت و ضرورت، مکاتبِ دینیہ کے فروغ اور نئی نسل کی دینی تربیت کے مختلف پہلوؤں پر فکر انگیز اور بصیرت افروز خطاب کیا۔
اس موقع پرصدر اجلاس مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں دینی تعلیم کی ہمہ گیر اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر دینی تعلیمی بیداری کے ذریعے معاشرے کے ہر طبقے تک دینی تعلیم کا پیغام پہنچانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ انہوں نے علماء، ائمہ، معلمین، والدین اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے متحد ہوکر اپنا کردار ادا کریں۔اجلاس کے دوران شرکاء نے دینی تعلیم کے فروغ، مکاتبِ دینیہ کے قیام و استحکام اور نسلِ نو کی دینی و اخلاقی تربیت کے سلسلے میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس مہم کو مزید وسیع پیمانے پر جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔مفتی محمد روشن شاہ قاسمی( صدر دینی تعلیمی بورڈ مہاراشٹر)نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم ہر مسلمان بچے کی بنیادی ضرورت ہے اور مکتب نئی نسل کے ایمان و عقیدہ، عبادات، اخلاق و کردار اور اسلامی تشخص کی بنیادی تربیت گاہ ہے۔ موجودہ دور میں بچوں اور نوجوانوں کو درپیش فکری و اخلاقی چیلنجز کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ ہر محلے اور بستی میں مکاتبِ دینیہ کا مضبوط اور منظم نظام قائم کیا جائے۔
قاری شمس الحق قاسمی صاحب نے دینی تعلیم کی اہمیت مکاتب دینیہ کے قیام کی فکر کی طرف شرکا کی توجہ مبذول کرائی ۔
مفتی عبد الرحمن اشرفی صاحب ( جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء مرہٹواڑہ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ صرف اسکولی اور عصری تعلیم کافی نہیں بلکہ بچوں کو قرآن کریم، نماز، روزہ، بنیادی عقائد، ضروری دینی مسائل، اسلامی آداب، اخلاق اور سیرتِ رسول اکرم ﷺ سے واقف کرانا والدین، ائمہ، علماء اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر بچپن ہی سے بچوں کی دینی بنیاد مضبوط کردی جائے تو وہ مستقبل میں ایک باکردار اور ذمہ دار مسلمان کی حیثیت سے معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ناظم جلاسمفتی سید محمد حذیفہ قاسمی، ناظمِ تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹرنے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ مکاتب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے معلمین کی تربیت، تدریسی طریقۂ کار میں بہتری، والدین کی شمولیت اور مقامی سطح پر مکاتب کی سرپرستی ضروری ہے۔ اہلِ خیر اور صاحبِ استطاعت افراد سے اپیل کی گئی کہ وہ دینی مکاتب کے قیام و استحکام کے لیے مالی و عملی تعاون کریں تاکہ کوئی بھی مسلمان بچہ بنیادی دینی تعلیم سے محروم نہ رہے۔
اجلاس کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت اور نعتیہ کلام سے ہوا ، مولانا عبد الرحمن قاسمی صاحب ( صدر جمعیۃ علماء سائوتھ ممبئی ) نے اجلاس کے اغراض و مقاصد پیش کرتے ہوئے مہمان کرام اور شرکاء اجلاس کا خیر مقدم کرتے ہوئے خطبہ استقبالیہ اور جمعیۃ علماء کی کارکردگی رپورٹ پیش کی ۔اور اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مجلسِ استقبالیہ، مقامی ذمہ داران اور جمعیۃ علماء کے کارکنان کی خدمات کو سراہا اور اظہار تشکر پیش کیا ۔اس اجلاس جمعیۃ علماء سائوتھ ممبئی کے جملہ عہدے داران و اراکین سمیت مفتی آزاد قاسمی صاحب مولانا محمد زاہد قاسمی مولانا اشفاق قاسمی چیتا کیمپ مولانا سید بلال صاحب جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء ساؤتھ ممبئی اور علاقے کے
ائمہ مساجد معلمین مکاتب اور شرکاء بڑی تعداد میں موجود تھے ۔