حکومت کسانوں کے کھاتوں میں بلا تاخیر نقد امداد منتقل کرے اور چارے اور پینے کے پانی کا فوری انتظام کرے: مولانا ندیم صدیقی

ممبئی، 29 ستمبر 2026ء:مہاراشٹر میں کم بارش اور طویل عرصے تک جاری خشک موسم کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کے پیش نظر ریاستی حکومت نے 32؍ اضلاع اور 358 میں سے 265 تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا ہے ۔ ریاست کے مختلف علاقوں، خصوصاً مراٹھواڑہ، ودربھ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بارش کی کمی کے سبب خریف کی فصلوںکابڑے پیمانے پر نقصان ہو چکا ہے ۔ اور ایک جی ۔آر جاری کرکے متاثرہ علاقوں میں کسانوں اور دیہی آبادی کو راحت پہنچانے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔اس صورتحال پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو محض اعلان اور سرکاری کارروائیوں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ فوری طور پر عملی امداد ان تک پہنچائی جائے اور کسانوں کے بینک کھاتوں میں بلا تاخیر نقد راحتی رقم منتقل کی جائے۔
مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ موجودہ حالات میں کسان شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہیں جنہوں نے زرعی ضرورتوں کے لیے قرض لیا ہے، انہیں موجودہ قدرتی بحران کے دوران مناسب ریلیف دیا جائے، تاکہ وہ قرض کے اضافی بوجھ تلے دبنے سے محفوظ رہ سکیں۔مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ خشک سالی کا اثر صرف فصلوں تک محدود نہیں بلکہ مویشی بھی اس بحران سے متاثر ہورہے ہیں۔ دیہاتوں میں سبز چارے اور پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ مویشیوں کے لیے فوری طور پر چارہ چھائونی قائم کیے جائیں اور ضرورت مند کسانوں کو چارہ فراہم کیا جائے۔اسی طرح جن علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے وہاں پانی کے ٹینکروں کی تعداد میں فوری اضافہ کیا جائے اور دیہی آبادی کو صاف پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کیے جائیں۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر نے مطالبہ کیا کہ خشک سالی سے متاثرہ تمام اضلاع میں خصوصی ہیلپ لائن اور کنٹرول روم قائم کیے جائیں، جہاں کسان اور عام شہری اپنی مشکلات اور شکایات درج کراسکیں اور انہیں فوری طور پر امداد اور رہنمائی فراہم کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو صرف سرکاری فائلوں اور رپورٹوں تک محدود رہنے کے بجائے گراؤنڈ لیول پر جاکر حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔ متاثرہ دیہات میں افسران کے دورے باقاعدگی سے ہوں اور فصلوں، پانی، چارے اور عوامی ضروریات سے متعلق حقیقی صورتحال حکومت تک پہنچائی جائے،کسانوں کا قرض مکمل معاف جائے،زراعت پر منحصر کسانوں اور کھیت مزدوروں کے خاندانوں کو فی خاندان 25 کلو مفت اناج دیا جائے۔کسانوں نےر زرعی پمپوں کا بجلی بل معاف کیا جائے ۔
مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ خشک سالی سے دیہی علاقوں کی پوری معیشت متاثر ہوتی ہے۔ کسانوں کے ساتھ ساتھ زرعی مزدور، چھوٹے کاروباری افراد اور غریب خاندان بھی معاشی مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیم پر بھی پڑتا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خشک سالی سے متاثرہ خاندانوں کے طلبہ کے لیے تعلیمی فیس اور دیگر ضروری اخراجات میں مناسب رعایت اور خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں، تاکہ مالی مشکلات کے سبب کسی بچے کی تعلیم متاثر نہ ہو۔

 

✖