سیرتِ نبوی ﷺ اور دینی تعلیم ہماری زندگی کی بنیاد ہیں: مولانا ندیم صدیقی و دیگر علماء کرام کا اظہار خیال
میرا بھائیندر، 3 ستمبر 2026ء: (پریس ریلیز) جمعیۃ علماء میرا بھائیندر کے زیرِ اہتمام میرا روڈ میں سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر ایک عظیم الشان اور روح پرور اجلاس منعقد ہوا، جس میں علماء کرام، ائمۂ مساجد، دینی و سماجی شخصیات کے علاوہ عوام و خواص کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس کا ماحول ابتدا سے اختتام تک نہایت پُرسکون، باوقار اور روحانی رہا اور شرکائے اجلاس نے پوری توجہ اور عقیدت کے ساتھ علماء کرام کے ایمان افروز خطابات سماعت فرمائے۔اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر حضرت مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض مفتی حماد نعمانی صاحب نے نہایت عمدگی کے ساتھ انجام دیئے۔ اجلاس کا آغاز قاری بدر عالم عرفانی کی قرأت سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی۔ نعت کی سعادت مولانا ساجد صاحب قاسمی نے حاصل کی اور اپنے پُرسوز نعتیہ کلام سے حاضرین کے دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے سرشار کردیا۔
اس موقع پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر حضرت مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے سیرت النبی ﷺ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی پوری انسانیت کے لیے کامل نمونہ اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرنے کے ساتھ آپ ﷺ کے اخلاق، کردار، عبادات اور معاملات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔انہوں نے دینی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نسلِ نو کے ایمان، عقیدہ، اخلاق اور اسلامی شناخت کے تحفظ کے لیے دینی تعلیم ناگزیر ہے۔مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ سیرتِ نبوی ﷺ اور دینی تعلیم دراصل ہماری زندگی کی بنیاد ہیں؛ ان دونوں سے مضبوط وابستگی ہی ایک صالح، باکردار اور باایمان نسل کی تشکیل کی ضمانت ہے۔مولانا محمد ابراہیم قاسمی صاحب، جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر نہایت جامع اور مغز خطاب فرمایا۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کے لیے سیرتِ طیبہ کو رہنمائی کا سب سے بڑا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ محض معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی عملی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے کیا جانا چاہیے۔
مفتی سید حذیفہ قاسمی صاحب، ناظم جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے بھی سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر عالمانہ، مدلل اور مؤثر خطاب فرمایا۔ انہوں نے عصرِ حاضر کے حالات کے تناظر میں سیرتِ نبوی ﷺ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مسلمانوں کو آپ ﷺ کی تعلیمات، اخلاق و کردار اور اسوۂ حسنہ کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اپنانے کی تلقین کی۔مفتی اسماعیل صاحب قاسمی، رکنِ شوریٰ دارالعلوم دیوبند و رکنِ اسمبلی مالیگاؤں نے سیرتِ طیبہ کے اخلاقی پہلوؤں پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سیرتِ نبوی ﷺ ایک بحرِ بے کراں ہے، ایسا وسیع سمندر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ کسی بھی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے کسی ایک گوشے کا بھی مکمل احاطہ کرسکے۔ آپ ﷺ کی سیرت ہر زمانے کے لیے تازہ، زندہ اور رہنمائی فراہم کرنے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیرتِ نبوی ﷺ محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ ایک سدا بہار اور مکمل ضابطۂ حیات ہے
اس اجلاس میں ماسٹر تبارک حسین صدیقی کو ان کی چالیس سالہ جمعیۃکی خدمات پر مبارکباد اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مولانا مظہر عالم قاسمی رح ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔اسی موقع پر مفتی عزیز الرحمن صاحب فتح پوری کو حال ہی میں امیرِ شریعت مہاراشٹر منتخب ہونے پر مبارکباد بھی پیش کی گئی اور ان کی علمی، فقہی اور دینی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔اجلاس کے کامیاب انعقاد پر خدامِ جمعیۃ علماء میرا بھائیندر نے اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام مہمانانِ گرامی، علماء کرام، ائمۂ مساجد، ذمہ داران اور عوام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔اجلاس کے انتظام و انصرام میں جمعیۃ علماء میرا بھائیندر کے اراکینِ منتظمہ اور خدام سمیت مفتی ابوالکلام قاسمی صاحب قاری اکرام الحق رحمانی صاحب مولانا انظار الحق فیضی صاحب مفتی عزیزاعبداللہ قاسمی صاحب مولانا حماد نعمانی صاحب مولانا محمد طیب قاسمی صاحب مولانا محمد اعجاز قاسمی صاحب مولانا محمد توقیر قاسمی صاحب مولانا حسن کمال قاسمی صا حب اہم کردار ادا کیا۔آخر میں امیرِ شریعت حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب فتح پوری کے مختصر مگر ایمان افروز بیان اور رقت آمیز دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔