معلمین کی تربیت، مکاتب کے استحکام اور نسلِ نو کی دینی تعلیم کے فروغ پر مولانا ندیم صدیقی ،مفتی سلمان منصورپوری کے بصیرت افروز خطاب

ایوت محل : 21؍ ستمبر 2026 ( پریس ریلیز ) مکاتبِ دینیہ کے معلمین کی علمی، فکری، تربیتی اور اصلاحی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور مکاتب کے نظام کو مضبوط و مستحکم بنانے کے مقصد سے جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام گذشتہ دنوں جنت پلیس پانڈھرکوڑہ روڈ ایوت محل میں مکاتب کے معلمین کا تربیتی جوڑ و جلسہ سیرۃ النبی ﷺ بصدارت حضرت مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب( صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر ) کی صدارت اور حضرت مولانا مفتی محمد روشن شاہ صاحب( صدر دینی تعلیمی بورڈ مہاراشٹر ) کی سرپرستی میں نہایت نظم و وقار کے ساتھ منعقد ہوا، جس کا آغاز قرآن کریم کی تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتیہ کلام سے ہوا، اس پروگرام میں علماء کرام نے مکاتبِ دینیہ کی اہمیت، معلمین کی ذمہ داریوں، بچوں کی دینی تربیت اور معاشرے میں دینی بیداری پیدا کرنے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ۔مفتی شیخ اعجاز شمسی صاحب ( جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع ایوت محل ) نے تمہیدی گفتگو کی ،بعدہ حافظ نصیر الدین صاحب اشاعتی اکولہ نے خطاب کرتے ہوئے دینی تعلیم کی اہمیت اور بچوں کی ابتدائی دینی تربیت کی ضرورت پر روشنی ڈالی، انہوں نے معلمین کو اپنی ذمہ داری کو محض تدریسی فریضہ نہیں بلکہ ایک عظیم دینی امانت سمجھ کر ادا کرنے کی تلقین کی۔
اس موقع پر صدر اجلاس مولانا حافظ ندیم صدیقی صاحب نے مکاتبِ دینیہ کی اہمیت اور معلمین کی ذمہ داریوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مکتب بچے اور دین کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرنے کا ابتدائی اور مؤثر ذریعہ ہے، اس لیے ہر محلہ اور ہر بستی میں بچوں کے لیے منظم مکتب کا قیام اور اس کا استحکام ضروری ہے۔انہوں نے معلمین سے کہا کہ وہ اپنے طلبہ کو صرف کتابی معلومات تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کے اندر نماز کی پابندی، قرآن سے تعلق، بڑوں کا ادب، والدین کی فرمانبرداری، سچائی، صفائی، حسنِ اخلاق اور اسلامی زندگی کا شعور پیدا کریں۔بعد ہ مہمان خصوصی نواسہ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان صاحب منصورپوری صاحب ( استاذ حدیث دار العلوم دیو بند و صدر دینی تعلیمی بورڈ مہاراشٹر ) نے دینی و روحانی تربیت، اصلاحِ معاشرہ اور دین کے ساتھ مضبوط تعلق کی ضرورت پر مفصل گفتگو کی۔انہوں نے معلمین کو ان کی عظیم ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مکتب سے نکلنے والابچہ اگر صحیح عقیدہ، صحیح عبادت اور اچھے اخلاق کے ساتھ پروان چڑھتا ہے تو وہ آگے چل کر اپنے گھر، خاندان اور معاشرے کے لیے دینی سرمایہ ثابت ہوتا ہے۔
مولانا مفتی محمد روشن شاہ صاحب( صدر دینی تعلیمی بورڈ مہاراشٹر )نے نے مکاتب کے قیام، معلمین کی تربیت، تعلیمی معیار کی بہتری اور بچوں کو دینی تعلیم سے جوڑنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ دینی تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے علماء، ائمہ، معلمین، والدین اور ذمہ دارانِ ملت کو باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ مکاتب کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ان کے معیارِ تعلیم اور تربیتی نظام کو بھی بہتر بنانا ضروری ہے۔مولانا مفتی عبدالرحمن صاحب(جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء مرہٹواڑہ )نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کی دینی و معاشرتی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد بھی معاشرے کی دینی اصلاح اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی دن نمازِ عصر کے بعد بیعت کی مجلس منعقد ہوئی ، جس میں مفتی سید محمد سلمان صاحب منصورپوری اور مفتی عبدالرحمن صاحب(جنرل سیکریٹری جمعیۃعلماء مرہٹواڑہ )کا اعلی تعلیم یافتہ ٹیچر س، ڈاکٹرس، انجینئر س اور وکلاء حضرات کے درمیان خصوصی بیان ہوا ۔
اجلاس میں جمعیۃ علماء ضلع ایوت محل کے جملہ عہدے داران و اراکین خاص طور پر مفتی صادق صاحب داروہ ( صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ضلع ایوت محل ) مولانا ساجد رشیدی صاحب ( نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع ایوت محل ) مفتی ناصر قاسمی صاحب ،حافظ ناضر صاحب ،قاضی غضنفر صاحب ( صدر جمعیۃ علماء پانڈھر کوڑہ ) مولانا سید ابوطلحہ حسامی صاحب،مولانا نفیس ندوی صاحب ،مولانا اظہر ندوی صاحب،مولانا سید حمزہ صاحب ( مہتمم دارالعلوم سراج الاسلام کل گائوں ) وسیم خان صاحب ،حافظ نسیم صاحب ،مفتی ناصر اشاعتی صاحب ، حافظ انیس صاحب ( مہتمم مدرسہ انوار القرآن ایوت محل )مولانا شارق صاحب مظاہری امام مرکز مسجد غوثیہ ایوت محل،حافظ سلیمان صاحب ،حافظ ایوب صاحب اشاعتی، حافظ سمیر صاحب پوسدمفتی محمد مجید صاحب ،مولانا سید ایاز انظر صاحب، حافظ منظور خان صاحب،مولانا عبدالحاجد صاحب، مولانا محمد ایوب صاحب،مولانا محمد عمران صاحب،مولانا مفتی انعام الدین صاحب ، مولانا مفتی محمد صادق صاحب، مولانا ظفر الدین صاحب بدوی ،قاری مفتخر صاحب جناب محمد اقبال صاحب ،مولانا مفتی منظور صاحب ، مولانا ایوب آزاد صاحب، مولانا نادر شمس صاحب، مولانا محمد رضوان صاحب ، حافظ محمد امین صاحب مولانا مفتی وسیم صاحب ،مولانا مفتی شیبان صاحب ، جناب حافظ محمد سلیمان صاحب و دیگر بڑی تعداد میں شریک تھے ۔

✖