مکاتبِ دینیہ کے معلمین، ائمۂ مساجد و ذمہ داران کے لئے واشم میں منعقدہ جلسہ عام سے مولانا ندیم صدیقی و دیگر کا خطاب
واشم: 22 ستمبر 2026ء( پریس ریلیز )مکاتبِ دینیہ کے نظام کو مزید مستحکم کرنے، ہر محلے اور بستی میں بچوں کے لیے دینی تعلیم کا انتظام کرنے، مکاتب کے معلمین اور ائمۂ مساجد کی تربیت و رہنمائی کرنے بالغان اور خواتین کے لیے دینی تعلیم کے مواقع پیدا کرنے اور نئی نسل کو قرآن کریم، نماز، روزہ، عقائد، ضروری مسائل اور سیرتِ نبوی ﷺ سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ کرنے صوبے بھر پروگرام منعقد کئے جا رہے ہیں ۔ اسی بابت گذشتہ دنوں جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام مرکز پیر غیبی مسجد، شہر واشم میں جلسہ عام حضرت مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب( سرپرست دینی تعلیمی بورڈ وصدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) کی صدارت اور حضرت مولانا مفتی محمد روشن شاہ صاحب قاسمی(صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء مہاراشٹر) کی سرپرستی میںمنعقد ہوا۔جس کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت اور نعتیہ کلام سے ہوا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع واشم کے مختلف علاقوں میں مکاتبِ دینیہ کے قیام اور استحکام کے لیے منظم اور مسلسل جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور دینی تعلیم کے دائرے کو مزید وسیع کیا جائے گا۔
اس موقع پر صدر اجلاس مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت صرف کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، ائمۂ مساجد، معلمین، علماء، دینی اداروں اور معاشرے کے ذمہ دار افراد سب کو مل کر اس اہم فریضے کو انجام دینا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ بنیادی دینی تعلیم سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہر محلے میں مکتب کا قیام، موجودہ مکاتب کا استحکام، معلمین کی تربیت، بچوں کی باقاعدہ حاضری اور والدین کی ذمہ داریوں کے سلسلے میں مسلسل بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا مفتی محمد روشن شاہ صاحب قاسمی نے مکاتبِ دینیہ کی اہمیت و ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ بچوں کی ابتدائی دینی تعلیم کا سب سے مؤثر اور بنیادی ذریعہ مکتب ہے۔ اگر بچوں کو کم عمری ہی سے قرآن کریم، نماز، عقائد، اسلامی آداب، اخلاق اور ضروری دینی مسائل کی تعلیم دی جائے تو ان کے اندر دین سے وابستگی اور اسلامی کردار کی مضبوط بنیاد قائم ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف بچوں کے مکاتب ہی کافی نہیں، بلکہ بالغان کے مکاتب اور خواتین کے مکاتب کے قیام کی بھی بھرپور ضرورت ہے، تاکہ معاشرے کا کوئی طبقہ دینی تعلیم سے محروم نہ رہے۔
مولانا مفتی عبدالرحمن صاحب(جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء مر ہٹواڑہ )نے مکاتب کے معلمین، ائمۂ مساجد اور ذمہ دار حضرات سے خطاب کرتے ہوئے ان کی ذمہ داریوں، تربیت اور تنظیمی امور پر گفتگو کی ،انہوں نے واضح کیا کہ مکتب صرف بچوں کو چند سورتیں اور دعائیں یاد کرانے کا نام نہیں، بلکہ مکتب بچوں کے ایمان، عبادات، اخلاق، کردار اور اسلامی شخصیت کی تعمیر کا بنیادی مرکز ہے۔ اس لیے معلمین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی نفسیات، ان کی عمر اور ذہنی استعداد کو سامنے رکھتے ہوئے مؤثر اور آسان تدریسی طریقہ اختیار کریں۔یہ اہم اجلاس مولانا محمد آصف صاحب، صدر جمعیۃ علماء ضلع واشم کی زیرِ نگرانی اور مولانا مفتی محمد الیاس صاحب، جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء ضلع واشم کی زیرِ قیادت منعقد ہوا۔ ضلعی ذمہ داران نے مکاتبِ دینیہ کے کام کو مزید منظم کرنے اور دینی تعلیمی بورڈ کی سرگرمیوں کو ضلع کے مختلف علاقوں تک پہنچانے کے لیے بھرپور عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس میں ضلع بھر سے جمعیۃ علماء کے عہدے داران و اراکین سمیت مولانا عبدالجبار صاحب، حافظ یاسین صاحب، مولانا طلحہ صاحب، مولانا عبدالرحمن صاحب، مولانا سلیم صاحب، انیس صاحب، انجینئر مزمل صاحب، مولانا نشاط صاحب، مولانا عبید صاحب، مفتی یونس صاحب، مولانا سعید صاحب، مولانا عبدالواحد صاحب، مفتی محمد امین صاحب، سلمان انجینیئر، مولانا توحید صاحب ضلع واشم کے علماءِ کرام، ائمۂ مساجد، مکاتب کے معلمین اور مختلف علاقوں کے ذمہ داران نے بھرپور شرکت فرمائی۔آخر میں شرکاء نے دینی تعلیم کے فروغ، مکاتب کے قیام و استحکام، معلمین کی تربیت اور نئی نسل کو قرآن و سنت سے وابستہ کرنے کے عزم کو تازہ کیا۔ اجلاس کا اختتام مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب کی دعا کے ساتھ ہوا۔