مکاتب اسلامیہ کی تحریک نبیوں کی تحریک ہے ، اس لئےبچوں کو مکاتب میں لانے کی فکر کرنا بے حد ضروری ہے
ناگپور ۔ 19؍ ستمبر 2026 ( پریس ریلیز ) جمعیۃ علماء ضلع ناگپور کے زیر اہتمام جامعہ حسینیہ ناگپور میں ایک روزہ جلسہ عام بعنوان مکاتب کی اہمیت و ضرورت پر بصدارت حضرت مولانا ندیم صدیقی صاحب (صدر جمعیۃ علماء مہارا شٹر) منعقد ہوا،جسمیں میں مؤقر علماء کرام خصوصاً نواسہ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصوری صاحب( استاذ حدیث دارالعلوم دیوبندو جنرل سکریٹری دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند) مفتی روشن شاہ قاسمی صاحب ( صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماءمہاراشٹر ) مولانا سراج احمد قاسمی صاحب(صدر جمعیۃعلماء ضلع ناگپور)مولانا محمد مرتضی صاحب ، پروفیسر سید نعمان صاحب (مہتمم مدینۃ العلوم صدر ناگپور )مولانا سید عبد الہادی صاحب( مہتمم جامعہ حسینیہ )اور دیگر مقامی علماء کرام نے شرکت کی،جلسہ کی ابتداء قاری بشارت علی صاحب کی قرات کلام پاک سے ہوئی، محمد عتیق متعلم جامعہ حسینہ نے نعت پاک پیش کیا ۔
صدر اجلاس مولاناحافظ محمدندیم صدیقی صاحب نے فرمایا کہ دینی تعلیمی بیداری مہم کو تحریک بناکر سو فیصد بچوں کو مکاتب میں لانا ضروری ہے، حکومت اور دوسرے ادارے ہمارے بچوں کو مرتدبنانے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کر رہےہیں اگر ہم نے ا بھی سے فکر نہیں کی تو ہماری آئندہ نسل دین و ایمان سے رخصت ہو جائے گی ۔موجودہ دور میں بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں کو مختلف ذرائع سے متاثر کرنے کی کوشیشیں جاری ہیں۔ سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، مختلف فکری و تہذیبی اثرات اور غیر دینی ماحول کے نتیجے میں بچوں کے عقائد، افکار اور اسلامی شناخت متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ہر مسلمان اپنے گھر سے اس مہم کا آغاز کرے، اپنے بچوں کو مکتب بھیجے اور اپنے محلے کے دیگر بچوں کو بھی دینی تعلیم سے جوڑنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
مقر رخصوصی حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصوری صاحب نے بھی دینی تعلیم اور مکاتب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئےفرمایا کہ ضروری علم دین ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے،بغیراس کے کوئی بھی ایمان والااپنے ایمان پر قائم نہیں رہ سکتا ہے ۔ علم دین ایک روشنی کی طرح ہے ۔ جس طرح بغیر روشنی کے منزل تک نہیں پہنچا جا سکتا،اسی طرح بغیر علم دین کی روشنی کے کوئی ایمان والاکامیاب نہیں ہو سکتا ہے۔ موصوف نے مزید فرمایا کہ آج کے پرفتن ماحول میں باطل طاقتیں ہمارے بچوں کی ذہن سازی کر رہی ہیں۔ اگر ہمارے گھروں میں دینی ماحول رہے گا تو ہی ہم اپنے بچوں کو بچا سکتے ہیں ۔ اگر گھر میں دینی ماحول نہیں رہے گا، تو ہمارے بچوں کا ایمان بچا پانا مشکل ہو جائے گا ۔ اسلئے آج ہمیں مکاتب کے قیام اور بچوں کو مکاتب میں لانے کی فکر کرنا بےحد ضروری ہے ۔ جس طرح ہم اسکولی تعلیم کی فکر کرتے ہیں اسی طرح مکاتب کی تعلیم پر زور دینا بھی ضروری ہے، مکتب کی تحریک نبیوں کی تحریک ہے۔ ہمارے نبیﷺنے بھی بچوں کی تربیت پر بہت زور دیا ہے۔
مفتی محمد روشن قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں دینی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے اپنے نبی ﷺکی زبان سے تعلیم کا حصول ہر مرد و عورت پر فرض فرمایا ہے،برائیوں کو دینی تعلیم سے ہی دور کیا جا سکتا ہے،آج ہمارے بچوں کی ایک بڑی تعداد مکاتب سے دور ہے اگر ہم نے ان کی فکر نہیں کی تو یہ نوجوان کفر اور شرک کے اندھیروں میں گم ہو جائیں گے، باطل ہمارے ایمان کا شروع سے دشمن بنا ہوا ہے، باطل کے ذریعہ یہ کوشش کی جارہی ہے کہ ہمارے بچے دین سے اور اسلام سے دور ہو جائیں ۔ اجلاس کے کامیاب انعقاد میں جمعیۃ علماءضلع ناگپور کےصدر مو لانا سراج احمد قاسمی صاحب ، جنرل سیکریٹری محمد سلیم انصاری صاحب، سیکریٹری فاروق قیصر صاحب، خازن امتیاز الدین اختر صاحب، حافظ ریاض الدین صاحب ، قاری مسعود احمد صاحب، مولوی محمد مسعود صاحب عبد المعبود خان صاحب ،انجینیر عبد الرحمن صاحب اور دیگر اراکین جمعیۃ علماء ضلع ناگپورنے بھر پور کوشیشیں کیں،اجلاس میں شہر کے علماء کرام ،ائمہ مساجد ،معززین شہر سمیت شرکاء اجلاس بڑی تعداد میں شریک تھے ۔