مکاتبِ دینیہ کے قیام، دینی تربیت اور اسلامی تشخص کے تحفظ پر علماء کا خصوصی زور

ممبئی: 18؍ ستمبر ( پریس ریلیز ) موجودہ دور میں نوجوان نسل کے اندر دین و ایمان کی اہمیت پیدا کرنے، دینی تعلیم بچوں اور نوجوانوں کے لیے مضبوط فکری و اخلاقی بنیاد فراہم کرنے ،نسل کو بروقت قرآن و سنت کی تعلیم اور اسلامی ماحول فراہم کرنے، معاشرے کے لیے ایک مفید، باکردار اور ذمہ دار نسل بنانے، مکاتب کے نظام کو مضبوط کرنے اور ہر بستی و محلے میں معیاری دینی تعلیم کا انتظام کرنے کے لئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب کی ہدایت پر پورے صوبہ میں دینی تعلیمی بیداری مہم چلائی جا رہی ہے ۔اسی بابت گذشتہ دنوں ممبئی کے مختلف علاقوں بالخصوص اندھیری، جو گیشوری ،گورے گاؤں، ملاڈ اور مالونی ، چیتا کیمپ ، منڈالہ ،مانخورد ،گوونڈی ،چیمپور ،کرلاو دیگر میں علماء کرام، ائمہ مساجد، مکاتب کے اساتذہ، ذمہ دارانِ مساجد اور سرکردہ افراد سے ملاقات کرکے تبادلہ خیال کیا گیاجن میں دینی تعلیم کی اہمیت، مکاتبِ دینیہ کی ضرورت، بچوں کی اسلامی تربیت اور نئی نسل کو دینی و اخلاقی اقدار سے وابستہ رکھنے کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ان میں علماء کرام نے اس امر پر خصوصی توجہ دلائی کہ موجودہ دور میں بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت صرف عصری تعلیم تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ ان کے اندر قرآن کریم کی تعلیم، نماز کی پابندی، بنیادی عقائد، ضروری مسائل، سیرتِ نبوی ﷺ، اسلامی آداب و اخلاق اور دینی شعور پیدا کرنا بھی والدین، ائمہ، اساتذہ اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر مقامی جمعیتوں کے ذمہ داران مفتی آزاد قاسمی صاحب ،مولانا زاہد قاسمی صاحب ،مولانا اشفاق قاسمی صاحب ( چیتا کیمپ ) قاری محمد ایوب قاسمی صاحب ( نائب صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر ) مولانا وہاج اطہر قاسمی صاحب ( صدر جمعیۃ علماء اندھیری ) مولانا رضوان قاسمی صاحب ( جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مالونی ) مولانا نوشاد صدیقی صاحب و غیرہ نے اپنے بیانات میں کہا کہ مکتبِ دینیہ ہماری نئی نسل کی دینی بنیاد مضبوط کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ہر محلہ، ہر مسجد اور ہر مسلم بستی میں منظم انداز سے مکاتب کا قیام ہونا چاہیے، تاکہ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے قرآن کریم، دعائیں، نماز، بنیادی اسلامی عقائد اور روزمرہ زندگی کے ضروری دینی احکام سے واقف کرایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بچے اپنے محلے کی مسجد اور مکتب سے وابستہ رہیں گے تو ان کے اندر دینی ماحول، مسجد سے تعلق اور اسلامی شناخت کا احساس مضبوط ہوگی۔علماء نے والدین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی دینی تربیت صرف مدرسہ یا مکتب کے اساتذہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ گھر کا ماحول بھی تربیت کا بنیادی مرکز ہے۔ والدین اپنے بچوں کے تعلیمی معمولات کے ساتھ ان کی نماز، تلاوت، دینی مطالعہ، اخلاق و کردار اور اسلامی آداب کی بھی نگرانی کریں اور انہیں نیک صحبت اور صالح ماحول فراہم کریں۔
دینی تعلیمی بیداری مہم کے تحت اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مکاتب کے نظام کو مضبوط، منظم اور معیاری بنانے کے لیے معلمین کی تربیت، نصاب کی بہتری، طلبہ کی باقاعدہ حاضری اور سرپرستوں سے مسلسل رابطہ ضروری ہے۔ ائمہ و معلمین کو چاہیے کہ بچوں کی نفسیات، عمر اور ذہنی استعداد کو سامنے رکھتے ہوئے محبت، حکمت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ دینی تعلیم دیں، تاکہ بچے دین سے مانوس ہوں اور تعلیم کو بوجھ محسوس نہ کریں۔ اس مقصد کے لیے مساجد، مکاتب، علماء، والدین اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کو باہم مل کر مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔مہم کے دوران بچوں کے ساتھ بالغ افراد کی دینی تعلیم کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا، جس طرح بچوں کے لیے مکاتب قائم کرنا ضروری ہے، اسی طرح خواتین اور بالغ مردوں کے لیے بھی قرآن کریم، نماز، عقائد اور ضروری مسائل کی تعلیم کے مناسب انتظامات ہونے چاہئے کیونکہ ایک دینی اور صالح گھرانے کی تشکیل میں خواتین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے ممبئی و مضافات میں دورہ کرنے مولانا ارشد قاسمی ،حافظ روح اللہ صاحبان عوام سے اپیل کر رہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے باقاعدہ منصوبہ بنائیں، مساجد سے متصل یا مناسب مقامات پر مکاتب قائم کریں، بچوں کو مکتب سے جوڑیں، معلمین کی حوصلہ افزائی کریں اور مکتب کے نظام کو محض چند بچوں تک محدود رکھنے کے بجائے پورے محلے کے بچوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔

✖